ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / قومی یکجہتی او مذہبی بھائی چارگی پیدا کرنے کو حکومت اولین ترجیحات میں شامل کرے : آل انڈیا امامس کونسل

قومی یکجہتی او مذہبی بھائی چارگی پیدا کرنے کو حکومت اولین ترجیحات میں شامل کرے : آل انڈیا امامس کونسل

Sat, 20 Aug 2016 21:03:59    S.O. News Service

نئی دہلی20اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)’’ملک کے بدلتے حالات میں حکومت کو سب سے پہلے بین المذاہب رَوَاداری کو فروغ دینا چاہیے ، اسی سے ملک میں امن و شانتی بحالی ہو سکے گی۔ جب تک مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے اندر باہمی تحمل و بھائی چارگی کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا ہے امن و امان کا ماحول پیدا نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ان عناصر پر قانونی شکنجہ کسنا ضروری ہے جو بین المذاہب نفرت پھیلانے کے عادی بن چکے ہیں‘‘۔ امامس کونسل کی ایک خصوصی میٹنگ میں ان باتوں پر زور دیا گیا۔آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مولانا شاہ الحمید باقوی نے کہا کہ : ’’اس وقت ملک کو سب سے زیادہ امن و شانتی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ملک میں بین المذاہب بھائی چارگی اور قومی یکجہتی ملک کی سلامتی اور باہمی رَوَاداری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اس سمت میں اقدام کرنا چاہیے اور اسے مملکتی امور کی اولین ترجیحات میں شامل کرنی چاہیے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ : ’’جب تک ملک میں باہمی امن و شانتی بحال نہیں ہوتی کسی بھی طرح کی ترقی اَدھوری ہے‘‘۔آل انڈیا امامس کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری اور قومی ترجمان مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے کہا کہ : ’’ ملک کی ترقی باہمی جذبہء ہمدردی اور قومی یکجہتی کے بغیر ناممکن ہے۔ ایک ملک کے تمام باشندگان کے اندر ایک ماں باپ کی اولاد کی طرح ایک دوسرے پر قربان ہونے کا جذبہ ہی ملک کو آگے بڑھاتا ہے اور ملک کو تمام مصائب سے نجات دلا سکتا ہے۔ جس ملک میں عوام کو مذہب اور کلچر اور علاقہ کے نام پر تقسیم کیا جاتا ہو، اس ملک میں باہمی جذبہء ایثار و قربانی اور قومی بھائی چارگی و بین المذاہب یکجہتی کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟‘ ‘۔ کونسل کے قومی ترجمان نے کہا کہ :’’آل انڈیا امامس کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ حکومتیں اپنی ترجیحی ایجنڈوں میں باہمی رواداری اور بین المذاہب بھائی چارگی کو شامل کرے ؛ کیوں کہ جس قدر جلد باشندگانِ ملک میں باہمی جذبہء ایثار و ہمدردی پیدا ہوگا اُتنا ہی جلد ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا‘‘۔


Share: